بھٹکل یکم / جون (ایس او نیوز) جالی پٹن پنچایت کے دو اہلکاروں کو پولیس نے جعلسازی کے معاملہ میں حراست میں لیا ہے جن کی شناخت اسماعیل گُبّی اور انور کے طور پر کی گئی ہے ۔
بتایا جاتا ہے کہ کچھ لوگوں نے انشورنس کمپنی سے ایک کروڑ روپے انشورنس کی رقم ہڑپنے کی سازش رچی تھی اور اس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے جالی پٹن پنچایت کے ان دو اہلکاروں نے نقلی ڈیتھ سرٹفکیٹ بنوایا تھا ۔ مگر انشورنس کا دعویٰ کرنے کے بعد کمپنی نے تحقیقات کی تو اس سازش کا پول کھل گیا ۔
معاملہ کی تفصیل یہ بتائی جاتی ہے کہ جنگن گدّے جالی میناکشی بی ایچ نامی خاتون کی طرف سے جالی پٹن پنچایت کو گزشتہ سال اگست میں ایک درخواست موصول ہوئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اس کے بیٹے بی ایچ ہرش وردھن کا انتقال ہوا ہے ، اس لئے اس کی ڈیتھ سرٹفکیٹ جاری کی جائے ۔ اس درخواست کے ساتھ گزشتہ سال جولائی میں بنگلورو کے منی پال ہاسپٹل میں سینہ کے درد کے لئے علاج کروانے کے دستاویزی ثبوت منسلک کیے گئے تھے ۔ یہ درخواست قبول کرنے کے بعد جالی پٹن پنچایت کے اہلکاروں نے ہرش وردھن کے انتقال کی رپورٹ تیار کی اور ستمبر 2021 میں ڈیتھ سرٹفکیٹ جاری کیا۔
اس ڈیتھ سرٹفکیٹ کی بنیاد پر انشورنس کی رقم کا مطالبہ کیے جانے پر کمپنی کے افسر نے مرنے والے شخص اور اس کے وارثوں کے بارے میں تحقیقات شروع تو پتہ چلا کہ یہ ڈیتھ سرٹفکیٹ جعلی ہے ۔ یہ معاملہ سامنے آنے پر پٹن پنچایت اہلکار ونائیک کی طرف سے پولیس کے پاس شکایت درج کروائی گئی ۔ اس کے بعد جالی پٹن پنچایت کے چیف آفیسر رامچندرا ورنیکر اور پنچایت اہلکار ونائیک اور انور کی طرف سے پولیس نے بیانات درج کیے ۔ جس میں یہ بات صاف ہوگئی کہ درخواست گزار خاتون جالی پٹن پنچایت دفتر میں نہیں آئی تھی کیونکہ وہ خاتون یا اس کا بیٹا جالی علاقہ میں رہائش پزیر ہیں ہی نہیں ۔ اصل میں پنچایت اہلکار اسماعیل گُبّی نے خود ہی یہ درخواست تیار کی تھی اور اس نے متعلقہ افسران کو یہ بتایا تھا کہ یہ بہت ہی غریب خاتون ہے اس لئے اس کی مدد کی جانی چاہیے ۔ اسماعیل کی باتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے پٹن پنچایت ہیلتھ سیکشن کے اہلکار نے ڈیتھ سرٹفکیٹ تیار کرکے اسماعیل کے حوالے کیا تھا ۔
اس پوری سازش پر سے نقاب اٹھاتے ہوئے پولیس نے کلیدی ملزم ایچ ہرش وردھن کو اپنی تحویل میں لیتے ہوئے پوچھ تاچھ شروع کی جس کے بعد جعلی ڈیتھ سرٹفکیٹ بنانے جالی پٹن پنچایت کے دو اہلکاروں کو اپنی تحویل میں لیا ۔
پتہ چلا ہے کہ نقلی ڈیتھ سرٹفکیٹ حاصل کرنے والا اور اس کی ماں دونوں ہی ہاسن کے رہنے والے ہیں ۔ بھٹکل میں وہ کبھی بھی رہائش پزیر نہیں رہے ۔ مگر جالی پٹن پنچایت کے ان اہلکاروں نے جالی میں ان کی رہائش کا پتہ ، پنچ نامہ میں درج نام ، پتہ اور فون نمبر سے متعلق تمام نقلی دستاویزات تیار کر رکھے تھے ۔ اور اس کی بنیاد پر ایک کروڑ روپے سے بھی زائد رقم ہڑپنے کا منصوبہ بنایا تھا ۔